Archive Pages Design$type=blogging

ستارہ

رات کے وقت آسمان کی طرف غور سے دیکھا جائے تو ستارے کانپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک ستارے کو میں نے کچھ زیادہ ہی کانپتے ہوئے دیکھا تو کہا۔ ’...

رات کے وقت آسمان کی طرف غور سے دیکھا جائے تو ستارے کانپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک ستارے کو میں نے کچھ زیادہ ہی کانپتے ہوئے دیکھا تو کہا۔
’’اے ستارے!کیا تجھے یہ خوف ہے کہ چاند طلوع ہوگا تو تیری چمک دمک ماند پڑجائے گی؟ یا تجھے صبح کے طلوع ہونے کا خطرہ ہے کہ صبح ہوتے ہی تُو فنا کے گھاٹ اُتر جائے گا؟ یا تجھے حُسن کے انجام کی خبر مل گئی ہے کہ حُسن کا انجام زوال ہے؟کیا تجھے یہ ڈر ہے کہ کوئی تجھ سے یہ نور کی دولت، یہ روشنی، یہ چمک دمک چھین لے جائے گا؟یا تجھے یہ خوف پریشان کررہا ہے کہ چنگاری کی طرح تیری عمر بھی بہت مختصر ہے اور تو سمجھتا ہے کہ جس طرح چنگاری ایک لمحے کے لیے چمک کر بجھ جاتی ہے، اُسی طرح تو بھی ایک لمحے کے لیے چمک کر بجھ جائے گا؟
’’اے ستارے! آسمان نے تیرا گھر زمین سے بہت دُور بنایا ہے اور چاند کی طرح تجھے سنہری اور نُور کا لباس پہنایا ہے۔ اس کے باوجود تیری ننھی سی جان پر خوف طاری ہے، اور تیری ساری رات کانپتے ہوئے گزرتی ہے۔ ایسا تو نہیں ہونا چاہیے!‘‘
پھر میں نے ستارے کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’اے چمکنے والے مسافر! یہ دُنیا عجیب ہے۔ یہاں کا نظام ہی کچھ ایسا ہے کہ ایک کی بلندی دوسرے کی پستی، ایک کاعروج دوسرے کے زوال اور ایک کی زندگی دوسرے کی فنا کا سبب بن جاتی ہے۔ سورج کی پیدائش لاکھوں ستاروں کے لیے موت کا پیغام ہے۔ کیوںکہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو آسمان پر چمکتے ہوئے لاکھوں تارے فنا ہوجاتے ہیں۔ جو چیز ان ستاروں کے حق میں فنا کی نیندہے۔ وہی آفتاب کے حق میں زندگی کی مستی بن جاتی ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ جسے ہم فنا سمجھتے ہیں وہ زندگی کا جوش اور کمال ہے۔ جب کلی چٹک کر اپنا وجود ختم کردیتی ہے تو پھول وجود میں آتا ہے۔ گویا غُنچے کی موت پر پھول کی پیدائش کا راز پوشیدہ ہے۔ جسے ہم عدم کہتے ہیں، وہ بھی ہستی کا آئینہ دار ہے۔کیوںکہ اس دنیا میں ایک کا عدم دوسرے کی ہستی کا سبب ہے۔ ایک چیز مٹتی ہے تو قدرت اس سے بہتر چیز وجود میں لے آتی ہے۔ ستارے مٹے تو سورج وجود میں آگیا۔ کلی گم ہوئی تو پھول آ موجود ہوا۔ قدرت کے کارخانے میں سکون اور ٹھہرائو نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں ہر گھڑی، ہرلحظہ تبدیلی، تغیّر اور انقلاب رُونما ہوتا رہتا ہے۔ یہاں کوئی چیز بھی ایک حالت پر قائم نہیں رہتی۔ زمانے میں کسی چیز کو اگر بقا ہے تو صرف تغیّر کو ہے۔ ہر چیز بدلتی جاتی ہے۔ صرف تغیّر باقی ہے۔‘‘
علّامہ اقبالؒؒ نے اس نظم میں ستارے کی زندگی کے حوالے سے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اس کائنات میں سکون اور ٹھہرائو ناممکن ہے۔ یہاں ہر چیز ہر گھڑی تبدیلی اور تغیّر کے مسلسل عمل سے گزرتی ہے۔ دنیا کی کوئی چیزبھی ایک حالت یا ایک قالب پر قائم نہیں رہتی بلکہ اس دنیا کی تمام چیزیں اپنے قالب اور اپنی ہیئت بدلتی رہتی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ بہتر سے بہتر شے کی تخلیق کے لیے تغیّر کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
پس کائنات میں اگر کسی چیز کو دوام اور پائداری حاصل ہے تو وہ یہی قانونِ تغیّرہے۔ ہر چیز بدلتی جاتی ہے۔، صرف تغیّر باقی ہے۔ پس جب تغیّر یا انقلاب اس دنیا کا قانون ہے تو کسی کو اس تغیّر یا انقلاب سے خوف زدہ یا غمگین نہیں ہونا چاہیے جو اس کی زندگی میں پیدا ہو۔ کیوںکہ تغیّر اور انقلاب سے اس کائنات کی کوئی شے بھی محفوظ نہیں ہے۔ 

COMMENTS

Name

Allama Iqbal English Articles Secret Wisdom بچوں کی کہانیاں حکایاتِ بانگ ِدرا دانائے راز علامہ اقبالؒ
false
ltr
item
Secret Wisdom | دانائے راز: ستارہ
ستارہ
Secret Wisdom | دانائے راز
https://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_70.html
https://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_70.html
true
5502768251605690494
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago