صبح کا ستارہ رورہا تھا اور روتے روتے کہہ رہا تھا۔ ’’میں بھی کتنا بدنصیب ہوں۔ قدرت کی طرف سے مجھے نگاہ تو عطا ہوئی۔ لیکن قدرت نے مجھے اس ...
صبح کا ستارہ رورہا تھا اور روتے روتے کہہ رہا تھا۔
’’میں بھی کتنا بدنصیب ہوں۔ قدرت کی طرف سے مجھے نگاہ تو عطا ہوئی۔ لیکن قدرت نے مجھے اس نگاہ سے دیکھنے اور اس سے کام لینے کی مہلت نہیں دی۔ مجھے قدرت نے اتنی زندگی ہی نہیں دی کہ میں اس دنیا کا جی بھر کے نظّارہ کرسکوں۔ اس دنیا کی ہر چیز کو سورج کی بدولت زندگی ملتی ہے۔ سورج نکلتا ہے تو ساری کائنات میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے لیکن میں ہی ایسا قسمت کا مارا ہوں جسے صبح کے دامن میں پناہ نہیں ملی۔ طلوعِ آفتاب دنیا کی ہرچیز کے لیے زندگی کا پیام لاتا ہے لیکن اس کی روشنی میرے لیے موت کا پیغام ثابت ہوتی ہے۔ بھلا اس کائنات میں صبح کے ستارے کی ہستی اور حیثیت ہی کیا ہے؟ وہ تو ایسے ہی ناپائدار ہے جیسے پانی کا بُلبُلا کہ ایک آن میں پھوٹ کر غائب ہوجاتا ہے۔ وہ تو ایک چنگاری کی طرح ہے کہ ذرا سا چمکی اوربُجھ گئی۔‘‘
میں نے صبح کے ستارے کی یہ باتیں سُنیں تو اس سے کہا۔
’’اے صبح کے ستارے! ایک صبح کی پیشانی کو اپنی جگمگاہٹ سے زینت دینے والے !تجھے اپنے فنا ہوجانے کا غم کھائے جارہا ہے؟ کیا توغیر فانی ہونا چاہتا ہے؟ تجھے لازوال اور ابدی زندگی کی آرزو ہے تو پھر ایسا کر کہ آسمان کی بلندیوں سے اُتر آ۔ آسمان کی بلندی سے شبنم کے ساتھ اتر کر میری شاعری کے باغ میں آجا۔ اس باغ کی فضا رُوح کو تازگی بخشنے والی ہے۔ میں اس باغ کا مالی ہوں جس کی بہار محبت ہے۔ یہ باغ ابد کی طرح ہمیشہ رہنے والا ہے۔ کیوںکہ اس کی بنیاد محبت پر قائم ہے جو خود ابدی اور غیر فانی ہے۔‘‘
علّامہ اقبالؒ نے صبح کے ستارے کی بابت یہ نظم ایک دوسرے رنگ میں کہی ہے۔اس نظم میں علّامہ اقبالؒؒ نے صبح کے ستارے کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر توفنا کے غم میں مبتلا ہے اور ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے تو میرے شعر کے باغ میں آجا جس کی رونق اور تروتازگی محبت کے دم سے ہے۔ یہ باغ کبھی ویران نہ ہوگا اور اس میں آکر تجھے فنا کے غم سے نجات مل جائے گی۔ کیوںکہ عشق اور محبت کے ابدی اور غیر فانی جذبے نے میرے کلام کی بُنیاد ابد کی طرح پائدار کردی ہے۔