دو ستارے اپنے راستے پر چلتے چلتے جب ایک ہی بُرج میں جمع ہوئے تو دونوں ایک دوسرے کو یوُں قریب پاکر بہت خوش ہوئے۔ ایک ستارہ دوسرے سے کہنے لگ...
دو ستارے اپنے راستے پر چلتے چلتے جب ایک ہی بُرج میں جمع ہوئے تو دونوں ایک دوسرے کو یوُں قریب پاکر بہت خوش ہوئے۔ ایک ستارہ دوسرے سے کہنے لگا۔
’’اگر ہمارا یہ ملاپ ہمیشہ قائم رہے تو کیا ہی اچھّا ہو۔ ہم ایک مّدت سے گردش میں ہیں۔ کاش یہ ہروقت کی گردش اپنے انجام کوپُہنچے۔ اگر آسمان ہمارے حال پر تھوڑی سی مہربانی کرے اور ہمیں اس مسلسل سفر سے نجات دے دے تو ہم اسی بُرج میں ایک ساتھ رہ کر چمک سکتے ہیں۔ اگرہم دونوں مل کر چمکنے لگیں تو یہ ہمارے لیے بھی اچھا ہوگا اور دوسروں کے لیے بھی۔
دوسرے ستارے کو بھی یہ بات پسند آئی اور اس نے کہا۔’’ہاں اگر ایسا ہوجائے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘
لیکن اُن ستاروں کی ملاپ کی یہ آرزو اُن کے لیے جُدائی کا پیغام بن گئی۔ اِدھر انھوں نے ہمیشہ ملے رہنے کی تمنّا کی اور اُدھر بُرج میں اُن دونوں کا ساتھ ختم ہوگیا۔ وہ اپنے اپنے راستے پر چلتے چلتے کچھ دیر کے لیے ایک دوسرے کے قریب آئے تھے اور پھر اپنے اپنے راستے پر بڑھتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ تاروں کی قسمت میں تو مسلسل گردش میں رہنا لکھا ہے اور اس گردش کا راستہ پہلے مقررہے۔ کوئی ستارہ ہزار چاہے، وہ نہ تو کہیں ٹھہر سکتا ہے اور نہ اس راستے سے اِدھر اُدھر ہوسکتا ہے۔ آشنائی اور ملاپ کا قائم اور باقی رہنا ایک ایسا خواب ہے جو اس کائنات میں کبھی پورا نہیں ہوسکتا کیوںکہ جدائی ہی اس دُنیا کا دستور ہے۔
علّامہ اقبالؒ نے اس نظم میں قِران میں آنے والے ( یعنی ایک ہی بُرج میں جمع ہونے والے ) دوستاروں کے حوالے سے ہمیں یہ بتایا ہے اس دنیا کا قانون ہی یہ ہے کہ کوئی چیز خواہ جان دار ہو یا بے جان، دوسری چیز کے ساتھ ہمیشہ وابستہ نہیں رہ سکتی۔ جس طرح دوستارے ہمیشہ ایک بُرج میں نہیں رہ سکتے دو انسان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ایک نہ ایک دن وہ ایک دوسرے سے جُدا ہو کر ضرور رہتے ہیں کیوںکہ جدائی ہی قانونِ قدرت ہے۔