Archive Pages Design$type=blogging

ونکا چاکلیٹ فیکٹری

عاطف پیٹر بہت سال پہلے کی بات ہے کہ کسی شہر میں چارلی نامی ایک لڑکا رہتاتھا ۔ اس کے ساتھ ہی اس کے والدین کے علاوہ دادا دادی نانا نانی بھ...

عاطف پیٹر
بہت سال پہلے کی بات ہے کہ کسی شہر میں چارلی نامی ایک لڑکا رہتاتھا ۔ اس کے ساتھ ہی اس کے والدین کے علاوہ دادا دادی نانا نانی بھی رہتے تھے۔ یہ سات لوگوں پر مشتمل گھرانہ بہت غریب تھا۔ ان سب کو کما کر کھلانے والے چارلی کے والدتھے۔ اوران کی تنخواہ ان سات لوگوں کے لیے کافی نہ تھی۔ چارلی کے والد ایک فیکٹری میںمعمولی سے ملازم تھے لیکن ان تمام حالات کے باوجود ان کی خواہش تھی کہ چارلی بھی تعلیم حاصل کرے۔ وہ چاہتے تھے کہ چارلی کا مستقبل بہت روشن ہے۔ اس لیے انہوںنے چارلی کو ایک مناسب سکول میں داخل کرا دیا تھا۔ اپنے والدین کے ساتھ ساتھ چار بزرگ والدین کا بھی بہت لاڈلا تھا۔ چارلی بہت ہی نیک اور سمجھدار لڑکا تھا۔ وہ اپنے سکول کے تمام بچوں سے الگ الگ سا رہتاتھا۔ کیونکہ باقی زیادہ تر بچے یا تو امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے یا پھر درمیانے درجے سے لیکن تمام بچے کسی نہ کسی طرح سے اپنے والدین کی دولت کا دکھاوا کرتے تھے جبکہ چارلی کے گھرانے میں غریبی کایہ عالم تھا کہ اکثر ایک ایک یا دو دو دن تک انہیں کھانے کے بغیر ہی سونا پڑتا تھا۔ ان فاقوں کا سب سے برا اثر چارلی کی صحت پر ہو رہا تھا کیونکہ اسے مناسب اور متوازن خوراک کی ضرورت تھی۔ ان تمام حالات کے باوجود یہ لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔ اور ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اپن طریقے سے مناتے تھے ۔چارلی کی زندگی میں اس کے والدین بزرگ اور والدین سے محبت کے علاوہ ایک اور چیز بھی تھی جو چارلی کوبہت پسند تھی۔ 
وہ چیز چاکلیٹ تھی یہ چاکلیٹ چارلی کو سال میں صرف ایک بار ملتی تھی اور وہ بھی اس کی سالگرہ کے دن ۔ چارلی سارا سال اس چاکلیٹ کا انتظار کرتا تھا وہ ایک بہت خاص اور مہنگی چاکلیٹ تھی۔ ہر کسی کی پسندیدہ چاکلیٹ وہی تھی ۔ اس جیسی چاکلیٹ کسی دوسری فیکٹری نے نہیں بنائی تھی۔ اس فیکٹری کا مالک بھی اپنی نیک دلی اور بلند شخصیت کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہ ہمیشہ نئے نئے طریقوں سے چاکلیٹ کی نئی نئی قسمیں بناتا تھا اور پوری دنیا میں ہر ملک میں بھجوایا کرتاتھا۔ 
لوگ اس فیکٹری کے مالک کے بارے میں یہ بھی سوچتے تھے کہ وہ کوئی جادوگر ہے اور جادوگر سے اتنی مزے دار چاکلیٹ بناتا ہے۔ فیکٹری پوری دنیا میں ونکا چاکلیٹ فیکٹری کے نام سے مشہور تھی۔ فیکٹری کے مالک کا نام ونکاتھا۔ چارلی نے ونکا کو کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن اپنے دادا سے اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھاتھا۔ چارلی کے خیال میں وہ کوئی عام انسان نہیں تھے۔ چارلی کے سکول کے راستے میں ونکا چاکلیٹ فیکٹری آتی تھی۔ چارلی ہمیشہ سکول جاتے اور آتے وقت فیکٹری کے سامنے کچھ دیر کھڑا ہو کر چاکلیٹ پگھلن کی خوشبوہوا میںپھیلی ہوتی تھی اور اسے محسوس ہوتا اور خوش ہو جاتا۔
دن اسی طرح گزرتے گئے چارلی کی سالگرہ کا دن آ گیا اسے سالگرہ کے موقع پر وہی چاکلیٹ تحفے کے طور پر ملی چارلی کچھ دیر تک اس چاکلیٹ کو ہاتھ میں پکڑ کرخوش رہا۔ چارلی نے وہ چاکلیٹ تھوڑی سی کھا کر ختم کی اس کا بس چلتا تو وہ چاکلیٹ کبھی ختم نہ ہوتی۔ لیکن اب اسے اگلے سال کا انتظار تھا۔ پھر سردیاں شروع ہو گئی اورآخر برف باری شروع ہو گئیی۔ چارلی کو سردیاں بہت پسند تھیں۔ خاص طورپر برف باری ایک د کسی مشہور اخبارمیں یہ خبر چھپ کہ ونکا چاکلیٹ فیکٹری کے مالک نے چار ایسے گولڈن ٹکٹ بنائے ہیں جو کسی بھی ونکا چاکلیٹ کے اندر موجود ہیں۔ وہ چار چاکلیٹ دنیا میں کہیں بھی ہو سکتی ہیں۔ جس کے اندر وہ گولڈن ٹکٹ چھپے ہوئے ہیں۔ اور جن چار بچوں کو وہ گولڈن ٹکٹ مل جائیں گے۔ وہ ونکا فیکٹری کا دورہ کرسکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ سا بچے کے والدین کو بھی ونکا چاکلیٹ فیکٹری آنے کی دعوت تھی۔ یہ ہی نہیں ہربچے کو جن کے پا س  وہ گولڈن ٹکٹ ہوں گے انہین ان کی ساری زندگی کے لیے ونکا چاکلیٹ بھیجی جائیںگی
اس خبرکے چھپتے ہی سارے بچے اور بڑے اسی کوشش میں لگ گئے کہ وہ گولڈن ٹکٹ انہیں إل جائے۔ ادھر جب یہ خبر چارلی کو ملی تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی ٹکٹ اسے بھی مل سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے لیے تو بہت زیادہ تعدادمیں چاکلیٹ چاہیے تھی۔ جبکہ چارلی تو ایک ہی چاکلیٹ سال میں حاصل کرتا تھا۔ 
ونکا فیکٹری کو اندر سے دیکھنے کی خواہش تقریباً سبھی لوگوں کو تھی دن گزرتے گئے ایک دن اخبار میں ایک کگولڈن ٹکٹ حاصل کرنے والے بچے کی تصویر چھپی۔ اس کے بارے میںلکھا ہوا تھا کہ اس نے بڑی تعداد میں چاکلیٹ کھائی ہیں اور گولڈن ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ لڑکا بہت ہی زیادہ موٹا تھا۔ انہی دنوں ایک اور بچی کی تصویر اخبار میں چھپی اس کے بارے میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اس نے دوسرا گولڈن ٹکٹ حاصل کر لیا ہے۔ یہ بچی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی اور ضدی بھی بہت تھی۔ اسی ضد کی وجہ سے دوسرا گولڈن ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی چارلی سوچتا رہا کہ کاش کوئی معجزہ ہوجائے اوراسے بھی گولڈن ٹکٹ مل جائے چار پانچ ہفتوں بعدتیسرے بچے کی تصویر اخبار میںچھپی اور اس کے بارے میں لکھاہوا تھا کہ اس بچے کو دو ہی شوق ہیں ایک بندوق کوہر وقت اپنے ساتھ رکھنا اوردوسرا ونکا چاکلیٹ کھانا۔ اس نے تیسرا گولڈن ٹکٹ حاصل کیاتھا۔ اب ایک ہی ٹکٹ رہ گیا تھا اور ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ آخری ٹکٹ اسے مل جائے۔ اس کوشش میں پورا سال گزر گیا کسی کو آخری ٹکٹ نہ مل سکا۔ پھر وہ دن آیا کہ جب چارلی کو وہ پسندیدہ چاکلیٹ ملنی تھی چارلی بہت خوش تھا۔ اس نے بہت سی میدوں کے ساتھ چاکلیٹ کاکاغذ کھولا کہ شاید اس کی قسمت میں وہ آخری ٹکٹ ہو۔ لیکن اس کی قسمت میںمزے دار چاکلیٹ کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ وہ پھر بھی خوش تھا کیونکہ اسے اس کی پسندیدہ چاکلیٹ جو مل گئی تھی۔ آخر چارلی سب کچھ بھول گیا اور اسی طرح ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ تمام لوگ ٹکٹ کو حاصل کرنے کا خواب بھولنے لگے لیکن کہیں نہ کہیں آخری گولڈن ٹکٹ تو تھا ضرور۔
سردیاں شروع ہو چکی تھیں اورسرد ہوائیں سردی بڑھا دیتی تھیں۔ ایک دن چارلی سکول سے واپس آ رہا تھا سرد ہوا چارلی کے چہرے پر سوئیوں کی طرح چبھ رہی تھیں۔ اچانک اس کی نظر برف میں کسی چیز پرپڑی۔ اس نے غور کیا تو وہ ایک سکہ تھا۔ چارلی نے سکہ برف سے نکالا سکہ ہاتھ میںلپکڑے وہ کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ اس نے اس سکے سے چاکلیٹ خریدنے کا سوچااور دکان پہنچ گیا۔ اس نے پہلے ایک ہی چاکلیٹ خریدی اور وہیں کھڑے کھڑے کاغذ اتارنے لگا لیکن اس میں کچھ نہ پایا۔ آخر وہ مایوس ہو گیا اور گھر جانے ہی لگا تھا کہ اس نے دوسری چاکلیٹ خریدنے کا فیصلہ کیا۔
جب اس نے دوسری چاکلیٹ خرید لی تو بہت امیدوں کے ساتھ اس کا کاغذ کھولا لیکن اسکے اندر کچھ نہ پایا اورکاغذ مایوسی کے عالم میں نیچے پھینک دیا۔ جیسے ہی اس نے کاغذ نیچے پھینکا ۔ کوئی چیز الگ سے گری۔ غور کرنے پر پتا چلا کہ چارلی آخری گولڈن ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے چارلی کو اپنی قسمت پر یقین نہیں ا ٓ رہا تھا۔ اگلے دن چارلی اور اس کے گھر والوں کی تصویر اخبار میں چھپی اوراسکی ساری کہانی بھی کہ کس طرح چارلی نے آخری ٹکٹ حاصل کیا۔ آخر چاروں بچوں اور اس کے والدین مشہور فیکٹری کا دورہ کر سکتے تھے۔ چارلی کے والدین کااس کے ساتھ جانا بہت مشکل تھا۔ کیونکہ اس کے والد ملازمت پر تھے اور چھٹی نہیں لے سکتے تھے۔ چارلی کی والدہ چار بزرگ والدین کا خیال رکھتی تھیںَ آخرمیں چارلی کے دادانے اس کے ساتھ چلنے پر رضامندی ظاہر کی۔ کیونکہ اس کے دادا کو بھی فیکٹری دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ 
اس دن فیکٹری کے سامنے تقریباً سارا شہر جمع تھا۔ تمام خوش قسمت بچوں اور ان کے والدین کو اندر جاتے دیکھنے کے لیے ۔ اس دن تمام جیتنے والے بچوں کو ان کے والدین کو ملا کرکل گیارہ لوگ فیکٹری کے اندر جانے والے تھے۔ فیکٹری کادروازہ کھلتے ہی سامنے ایک مہذب اور بری عمر کا شخص کھڑا نظر آیا۔ یہ فیکٹری کے مالک جناب ونکا تھے۔ انہوںنے سب سے پہلے اپنا تعارف کرایا اور ساتھ ساتھ بچوں سے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ انہیں ونکا انکل کہ سکتے ہیں۔ یہ سب کرنے کے بعد انہوںنے کچھ نصیحتیں بچوں اور ان کے والدین کو کیں کہ وہ خود سے کسی چیز کو ہاتھ نہ لگائیں ورنہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ جب سب کچھ سمجھا چکے تو انہوںنے پہلے کمرے کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کمرے کی طرف چلتے ہیں۔
پہلے کمرے میں چاکلیٹ کے لیے بڑے بڑے شیشے کے مضبوط پائپ تھے مشینیںچل رہی تھیں۔ لیکن کوئی ملاز م نظر نہیں آ رہا تھا۔ اچانک موٹے بچے کی نظر ننھے ننھے بونوں پر پڑ ی جن کے بال سنہرے تھے۔ یہ راز ونکا فیکٹری کا سب سے بڑا راز تھا جو تقریباً کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ فیکٹری کو چلانے کے لیے ونکا انکل کو کچھ خاص قسم کے لوگوں کی ضرورت تھی جو ہر وقت فیکٹری میںہی رہیں۔ اور وہی کام کریں۔ وہ انسان نہیںہو سکتے تھے۔ کیونکہ انسان ضرورت پڑنے پر فیکٹری چھوڑ دیتے ہیں یا بیمار ہو جاتے ہیں یا کسی اور وجہ سے تو اس مسئلے کے حل کے لیے ونکا انکل نے بہت کچھ آزمایا۔ ایک دن یوں ہی جنگل میں سے گزرتے ہوئے انہیںکچھ آوازیں سنائی دیں۔ ونکا انکل نے کہا کہ میں نے قریب جا کر دیکھا تو درخت کے تنوں پر بہت ہی خوبصورت اور چھوٹے چھوٹے گھر بنے ہوئے تھے۔ میں نے ایک گھرکا دروازہ کھٹکھٹایا تواند ر سے اس ننھی مخلوق کا سردار نکلا۔ ہم دونو ں نے ایک دوسرے کے طرز زندگی معلوم کی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی خوارک کوکو بیج ہیں۔ یہ سنتے ہی میں حیران ہو گیا کیونکہ یہ وہی بیج ہیں جن کی مدد سے چاکلیٹ بنتی ہے ۔ پھر سارا معاملہ طے کرنے کے بعد یہ ننھے بونے میری فیکٹری میںکام کرنے پر راضی ہو گئے اوراس کے بدلے میں ان کوان کی خوراک یعنی کوکو بیج اور زندگی کی تمام سہولتیں حاصل ہیں۔ سارا کام بہت خوشی سے کرتے ہیں اور اس کا ثبوت ان کا ہر وقت خوشی سے گاتے رہنا ہے سارا دن فیکٹری میں ان کے گانوں سے میں خوش رہتاہوں۔ 
جب یہ ساری باتیں ہو رہی تھیں تو اس موٹے بچے نے ایک شیشے کے پائپ کے اندر ہاتھ ڈالا اور جیسے ہی اس نے ہاتھ اندر ڈالا وہ خود بھی اس کے اندر چلا گیا۔ پائپ کے اندر تیز ہوا نے اسے اندر کھینچ لیا تھا چونکہ وہ کافی موٹا تھا اس لیے نہ تو وہ آگے جا سکتا تھا اورنہ ہی واپس مڑسکتا تھا ۔ اس کے والد اس کے نکنے کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔ ونکا انکل نے اس کے والدین سے کہا کہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ آپ کا بیٹا پائپ سے نکل آئے گا۔ آپ لو گ میرے ساتھ دوسرے کمرے میں چلیں تو انہوں نے انکار کر تے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بیٹے کے ساتھ ہی آئیں گے۔
ونکا انکل نے کہا آپ کے بیٹے نے غلطی کی ہے۔ میں نے منع کیا تھا کہ کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا لیکن کوئی بات نہیں میرے بونے اسے باہر نکال دیں گے اور یہ کہہ کر وہ آٹھ لوگوں کے ساتھ دوسرے کمرے میں داخل ہوگئے کیونکہ ایک ہی دن تھا۔ دوسرے کمرے میں داخل ہوتے ہی سب لوگوں کو گانے کی آوازیں سنائی دیں۔ غور کرنے پر پتہ چلا کہ یہ سریلی آوازیں ان بونوں کی ہیں ننھے بونوں کو گاتے دیکھ کر اس ضدی بچی نے ضد کرنا شروع کر دی کہ اسے بھی وہ ننھے بونے اپنے کمرے کے لیے چاہئیں۔ اس نے کہا کہ میں ان کے ساتھ کھیلا کروں گی۔ وقتی طور پر اس کے والدین نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کی ضد کو پورا کرنا ناممکن تھا۔ اس کمرے میں چاکلیٹ کے بڑ ے بڑے ٹب پڑے ہوئے تھے۔ جن میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اور ساری چاکلیٹ پگھلی ہوئی تھی۔ وہ ننھے بونے چاکلیٹ کو پگھلا رہے تھے۔ ان بونوں کو کام کرتے ہوئے دیکھ کر وہ بچی زیادہ ضد کرنے لگی۔ کہ دو یا تین بونے اس کیہاتھ میں رکھ دیے جائیں اورؤاس کے بعد ہی وہ باقی فیکٹری کا دورہ کرے گی۔ لیکن ونکا انک نے انکار کر دیا۔ کیونکہ اس ضدی اور بدتمیز لڑکی کے ساتھ خود ہی نہیں جانا چاہتے تھے۔
لڑکی نے بدتمیزی کی اور زبردستی دو بونوں کو پکڑ لیا۔ لیکن بونوں نے اس کے ہاتھ پر دانت کاٹا اور لڑکی نے درد کی وجہ سے ہاتھ کھولا اور بونے گر گئے۔ لیکن بونوں کو کوئی نقصان نہ ہوا۔ درد کی وجہ سے لڑکی نے رونا شروع کر دیا اور سارے کمرے کو سر پراٹھا لیا۔ ونکا انکل نے اس بچی کو بہت محبت اور شفقت سے سمجھایا لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی تھی کہ اسے وہ بونے چاہئیں۔ ونکا انکل نے اس کے والدین سے کہا کہ آپ اپنی بیٹی کو خود سنبھالیں لیکن اس کے والدین نے کہا کہ ہماری بیٹی بہت ضدی ہے آج تک ہر بات ضد سے پوری کی ہے۔ اسے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ونکا انکل نے اس کے والدین سے کہا کہ یہ تو بچی ہے۔ تھوڑی دیر ضد کرے گی اور پھر مان جائے گی آپ لو گ میرے ساتھ تیسرے کمرے میں چلیں تو اس کے والدین نے کہا کہ آپ لوگ جائیں ہم لوگ اپنی بچی کو سمجھا کر آپ لوگوں کے پیچھے آتے ہیں۔
ونکا انکل چونکہ ایسا نہیں چاہتے تھے لیکن وہ دوسرے بچوں کا وقت ضائع بھی نہیںکرنا چاہتے تھے۔ انہوںنے بچی کے والدین کی بات مان لی اور انہیںچھوڑ کر تیسرے کمرے میں داخل ہوگئے۔ اب ک پانچ لوگ باقی رہ گئے تھے۔ ونکا انک نے سب کو سمجھایا کہ اس کمرے میں بہت احتیاط سے چلنا پڑے گا۔ کیونکہ اس کمرے میں ہر طرف رسیاں لگی ہوئی تھیں اورانہیں رسیوں کی مدد سے سب کو آگے جانا ہے۔ جیسے ہی تیسرے کمرے کا دروازہ کھولا تو ہر طرف رسیاں لٹک رہی تھیں اور نیچے ہر طرف چاکلیٹ کے بیج پڑے ہوئے تھے۔ ہر کوئی پہلی رسی سے دوسری اور تیسری اسی طرح آخری رسی پر پہنچ کر کمرے کی دوسری طرف پہنچ رہے تھے سب لوگوں کو تھوڑی بہت مشکل ہوئی۔ کیونکہ رسیوں سے گزر کر آنا جانا عام اورمعمول زندگی سے مختلف تھا۔ چارلی اور اس کے دادا کو یہ عمل بہت اچھا لگا کیونکہ ان کو سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا۔ اوروہ بہت خوش تھے۔ ونکا انکل سب کی مدد کر رہے تھے۔ اور سب کو سمجھاتے جا رہے تھے سبھی لوگ کمرے کی دوسری طرف پہنچ چکے تھے۔ سوائے اس لڑکی کے جس کو ہر وقت بندوقوں کے ساتھ کھیلنے کا شو ق تھا۔ اس نے پتہ نہیں کیا سوچا اور جیب سے بندو ق نکال کرآگے کی تمام رسیاں گرا دیں اب کوئی راستہ نہیں تھا جس کی مدد سے وہ آگے بڑھ سکے یا واپس پیچھے جا سکے۔ وہ ایک رسی کو پکڑ کر لٹکا رہا۔
اس کے والدین نے کہا کہ وہ چھلانگ لگا دے۔ لیکن اس بچے کو گولی چلانے کی بہت اچھی جگہ مل چکی تھی۔ وہ بغیر کسی کی سنے سب چیزوں پر گولی چلاتا رہا۔ اسے یہ سب کچھ کرنے میں بہت مزہ آ رہا تھا۔ ونکا انکل نے اسے کافی دیر سمجھایا۔ کافی دیر سمجھانے کے بعد ونکا انکل نے اس کے بھی والدین کو کہا کہ آپ کا بیٹا مان جائے تو آپ سب اگلے کمرے میں تشریف لے آنا۔ اس کے والدین مان گئے۔
اب ونکا انکل چوتھے کمرے میں دوہی لوگوں کے ساتھ داخل ہو گئے۔ ونکا انکل نے تمام فیکٹری کا دورہ چارلی اوراس کے دادا کو کرایا اور آخر میں وہ اس کمرے میں پہنچ گئے جہاں پر چاکلیٹ تیار ہونے کے بعد بڑے بڑے ڈبوں میں بند کر کے ٹرکوں کے ذریعے باہر بھیجی جاتی تھی۔ اس جگہ پہنچ کر ونکا ان نے جو بات چارلی اور اس کے دادا سے کہی تو ان دونوں کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ وہ دونوں حیرانی کے عالم میں کھڑے ہوئے تھے ونکا انکل نے کہا۔ گولڈن ٹکٹ کے ذریعے انہوںنے نیا مالک جو مستقبل میں فیکٹری کو دیانتداری ‘ ایمانداری اور خوش اسلوبی سے چلا سکتا ہے منتخب کر لیا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ گولڈن ٹکٹ تو ایک بہانہ تھا ۔ وہ تو بس ایک وارث کو ڈھونڈنے رہے تھے۔ جسے وہ فیکٹری کا مالک بنا سکیں۔ لیکن صرف تمہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ تم اس فیکٹری کے اور اس کے ننھے بونوں کا اسی طرح خیال رکھو گے جیسے میں رکھتا ہوں۔ اور اسی طرح ا س کانام روشن کرو گے۔ جیسے میں نے ساری دنیا میں اس فیکٹری کا نام روشن رکھا۔
چارلی کو ایسا لگا کہ شاید وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ لیکن وہ کوئی خواب نہیں تھا بلکہ والدین اور بزرگ والدین کی اچھی تربیت کا نتیجہ تھا۔ وہ بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا تھا۔ ونکا انکل نے چارلی سے کہا کہ آج سے یہ فیکٹری تمہارے نام اس کے دادا کے لیے اس سے خوبصورت دن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا کہ جس دن اس کے پوتے کی سب سے پسندیدہ چیز جسے پوری دنیا پسند کرتی ہے۔ اس کے نام ہو چکی تھی۔ ونکا انکل نے کہا تم اپنی تعلیم پر توجہ دو ۔ اور ہاں آج سے اپنے گھر کے تمام افراد کو فیکٹر ی کے اس بڑے گھر میں لے آئو۔ جو بہت عرصہ سے ویران پڑا ہوا ہے۔ اور تم اور تمہارے سب گھر والے اس گھر میں آرام سیرہ سکتے ہیں۔
اسی طرح دن گزرتے گئے۔ اور چارلی بڑا ہو گیا۔ ونکا انکل بھی کافی بوڑھے ہوچکے تھے۔ اب چارلی نے سب کی دعائوں سے چاکلیٹ فیکٹری سنبھالی تھی۔ اس کی رحم دلی اورنیک دلی کے باعث تمام بونے بھی اس سے خوش تھے اور تقریباً ہر سال بہترین چاکلیٹ بنانے والی فیکٹری کا انعام اسی فیکٹری کوملتا رہا۔ فیکٹری ویسی ہی رہی لیکن چارلی کی زدنگی بدل چکی تھی۔ اب وہ دنیا کا امیر ترین شخص بن چکا تھا۔ فیکٹری کی بدولت اس کی قسمت بدل چکی تھی۔ اب اس کی سب سے پسندیدہ چاکلیٹ اب اس کے سامنے بنتی تھی ۔ اوریہ سب اس کی اچھی شخصیت کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔ فیکٹری میں ویسے تو کوئی خاص تبدیلیاں نہیں آئی تھیں۔ لیکن اگر کوئی تبدیلی تھی تو وہ یہ تھی کہ ونکا چاکلیٹ فیکٹری کے بجائے چارلی چاکلیٹ فیکٹری کے نام سے مشہور ہو چکی تھی۔ کیونکہ یہ ونکا انکل کی خواہش تھی کہ ان کی فیکٹری چارلی کے نام سے ترقی کرے۔ اور اب چارلی چاکلیٹ فیکٹری دنیا کی سب سے بہترین چاکلیٹ بناتی تھی۔

COMMENTS

Name

Allama Iqbal English Articles Secret Wisdom بچوں کی کہانیاں حکایاتِ بانگ ِدرا دانائے راز علامہ اقبالؒ
false
ltr
item
Secret Wisdom | دانائے راز: ونکا چاکلیٹ فیکٹری
ونکا چاکلیٹ فیکٹری
Secret Wisdom | دانائے راز
https://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_5.html
https://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_5.html
true
5502768251605690494
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago