سوُرج چھُپ گیا۔ شام ہوگئی اور ہلکا ہلکا اندھیرا چھا گیا۔ اُفق پر شفق کی سُرخی نمایاں ہوگئی۔ دن میں جن چیزوں پر سفیدی جھلکتی نظر آتی تھی، ا...
سوُرج چھُپ گیا۔ شام ہوگئی اور ہلکا ہلکا اندھیرا چھا گیا۔ اُفق پر شفق کی سُرخی نمایاں ہوگئی۔ دن میں جن چیزوں پر سفیدی جھلکتی نظر آتی تھی، اب اُن پر سنہرا رنگ چھا گیا۔ یُوں معلوم ہوتا تھا کہ قدرت جو دن بھر چاندی کے زیورات پہن کر اپنے حسُن کی جھلک دکھاتی رہی تھی، اس نے شام ہوتے ہی چاندی کے زیور اُتار کر سونے کے زیور پہن لیے ہیں تاکہ اُس کے حُسن و جمال میں ایک نئی رعنائی اور دلکشی نظر آئے۔
شام ہوتے ہی اندھیرا چھا نے لگا اور شوروغل کی جگہ خاموشی لینے لگی۔ رات کی دُلہن کے وہ پیارے پیارے موتی چمکنے لگے جو دُنیا کے ہنگاموں سے بہت دور رہتے ہیں اور جنھیں انسان اپنی زبان میں تارے کہتا ہے۔ یہ تارے آسمان کی محفل کو سجانے میںلگے تھے کہ عرشِ بریں سے ایک فرشتے کی آواز آئی۔ وہ کہہ رہا تھا:
’’اے رات کے پہرے دارو! اے آسمان کے تارو! تمھاری پوری قوم آسمان کی بلندیوںپر بیٹھی ہوئی جگمگارہی ہے۔ کوئی ایسانغمہ چھیڑو جو چمک کررات کے اندھیرے میں سفر کرنے والے قافلوں کو راستہ دکھاتا ہے اور وہ تمھی کو دیکھ کر اپنی منزلِ مقصود کی راہ لیتے ہیں۔ زمین والے تمھیں اپنی قسمتوں کے آئینے سمجھتے ہیں اور تمھاری گردش کے حساب سے انسانوں کی تقدیروں کا حساب لگاتے ہیں۔ چوںکہ اہلِ زمین کی نظر میں تمھاری وقعت اور اہمیت بہت زیادہ ہے اس لیے وہ تمھاری آواز کو یقینا غور اور توجہ سے سنیں گے۔‘‘
فرشتے کی صدا سنتے ہی آسمان کی تاروں بھری فضا کی خاموشی ختم ہو گئی اور آسمان کی خاموش اور وسیع فضا میں تاروں کا یہ نغمہ گونجنے لگا۔
’’ستاروں کی دلکشی اور رعنائی میں خدا کے حُسن وجمال کی جھلک اس طرح نظر آتی ہے جیسے شبنم کے آئینے میں پھول کا عکس نظر آتا ہے۔ نئے طریقوں سے ڈرنا اور پرانے طورطریقوں پر اڑے رہنا ہی قوموں کی زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ ہے۔ قومیں ہمیشہ نئے دستور سے دور بھاگتی ہیں اور لکیر کی فقیر بنی رہنا چاہتی ہیں۔ قدامت چھوڑ کر جدّت اختیار کرنا بڑا مشکل کام ہے اور ایسا حوصلہ ہر قوم کو نہیں ملتا مگر جو قومیں نئے تقاضوں کا صحیح جواب نہیں دیتیں، وقت کے تقاضوں کو پہچانتے ہوئے ان سے مطابقت نہیں کرتیں، وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں، یہاں تک کہ ختم ہوجاتی ہیں۔ قدیم اور جدید کی کشمکش کا دور ہر قوم کے لیے حد درجہ نازک ہوتا ہے۔ جو قوم اس منزل سے بخیروخوبی گزرجاتی ہے، وہی زندگی کی جدوجہد میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ زندگی کا قافلہ بہت تیزرفتار ہے۔ زمانہ ہروقت تیزی سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ جو قومیں اس کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتیں، دوسری قومیں اُن کو کچلتے اور روندتے ہوئے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
ہزاروں ستارے ایسے ہیں جو ہماری نظروں سے غائب ہیں لیکن ان کے نظر نہ آنے کے باوجود ہم اِنھیں بھی اپنی برادری میں شمار کرتے ہیں۔ جس بات کو اہلِ زمین ایک طویل مدّت میں بھی نہ سمجھ سکے، اس کو ہم نے اپنی مختصر سی زندگی میںسمجھ لیا۔ کائنات کے تمام نظام باہمی کشش کے باعث قائم ہیں۔ جب تک ایک دوسرے سے محبّت اور تعلق قائم ہے، نظام باقی اور قائم ہے، جہاں یہ کشش ختم ہوئی، نظام درہم برہم ہوگیا۔ تاروں کی زندگی میں یہی نکتہ چھپا ہوا ہے۔‘‘
علّامہ اقبالؒؒؒ نے اس نظم میں ستاروں کی زبانی قومی زندگی اور قومی بقا کا راز فاش کیا ہے اور یہ حقیقت واضح کی ہے کہ مسلمان اگر بحیثیت قوم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ستاروں کی زندگی سے سبق اور نمونہ حاصل کریں۔ ستاروں کا سارا نظام باہمی جذب اور کشش پر قائم ہے۔ اس طرح مسلمانوں کا قومی نظام بھی صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب وہ بھی ’’جذب ِ باہمی‘‘ کے اصول پر عمل کریں، آپس میں اُخوت اور محبّت کے رشتوں کو فروغ دیں۔ وہ اگر دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اسی جذبِ باہمی یا آپس کی محبّت اور کشش کی بدولت کرسکتے ہیں۔