Archive Pages Design$type=blogging

فیصلہ خود کیجیے

عارفہ سعید وہ دفتر میں داخل ہوا تو ٹھٹھک کر رہ گیا ۔ دروازے کے عین سامنے بیٹھے کلرک پر اس کی نظریں جم کر رہ گئیں تھیں۔ وہ کبھی کلرک کے چ...

عارفہ سعید
وہ دفتر میں داخل ہوا تو ٹھٹھک کر رہ گیا ۔ دروازے کے عین سامنے بیٹھے کلرک پر اس کی نظریں جم کر رہ گئیں تھیں۔ وہ کبھی کلرک کے چہرے کی طرف دیکھتا تھا تو کبھی اس کی میز پر رکھی اس کے نام کی تحتی کو جس پر مبشر رضا لکھا تھا۔ کلرک اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اور وہ بھی نظریں ہٹائے بغیر اسے دیکھے جا رہا تھا۔ ان دونوں کی نگاہوں میں پہلے تو شک اور بے یقینی کے اثرات تیر رہے تھے۔ مگر اب ان کی جگہ شناسائی نے لے لی تھی۔ اور کلرک کا سر آہستہ آہستہ جھکنے لگا تھا۔ پھر اس کی نگاہیں زمین پر گڑھ کر رہ گئیں ۔ دفتر میں موجود باقی کلرک بھی اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کا ایک کلرک کو اس طرح گھورنا نہ صڑف انہیں حیرت زدہ کر گیا تھا بلکہ اس کے ساتھ آئے دیگر محکمہ تعلیم کے عہدے دار بھی آنکھوں میں سوال سمیٹے ہوئے تھے۔ یہ ڈسٹرکٹ ایجوکشن آفیسر نیا نیا تعینات ہوا تھا۔ اس کے آتے ہی محکمے میں ہلچل سی مچ گئی تھی۔ تعلیمی دفاتر کی کڑی نگرانی ہونے لگ تھی۔ وہ خود دفاتر کی پڑتال کے لیے چھاپے مار رہا تھ ا۔ ضلع کے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اچانک ہی بہت بہتر ہو گئی تھی۔ آج بھی وہ نظریں ا س دفتر میں اس غرض سے آیا تھا کہ اور اب مبشر رضا کے چہرے پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ یہ چہرہ… اسے بہت کچھ یاد دلا رہا تھا۔ یہ وہ چہرہ تھا جسے وہ ہزاروں میں سے بھی پہچان سکتا تھا۔ اور کبھی بھی اپنی یادوں سے اسے کھرچ نہیں سکتا تھا۔ وہ ماضی کی بھول بھلیوں میں کھونے لگا گزری یادیں اچانک ہی اس پر یلغار کرنے لگی تھیں اور وہ ان میں گھرتا جا رہا تھا ڈوبتا جا رہا تھا۔ 
تفریح کی گھنٹی بجتے ہی ساری کلاسوں میں ہلچل سی مچ گئی تھی۔ مسلم ہائی سکول کے طلباء اچھلتے کودتے کلاسوں سے باہر آنے لگے تھے۔ ہر لڑکا پہلے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایسی افراتفری میں کسی کو گرنا کیا مشکل ہے۔ دسویں جماعت کے لیے ایک لڑکے نے دروازے میں دوسرے کو ٹانگ سے اڑنگا لگایا تو وہ زمین پر گر کر دو لڑھکنیاں کھا گیا۔ اس کا یونیفارم مٹی سے بھر گیا پیچھے سے ایک قہقہہ پڑا۔
واہ بھئی کتنا پیار ہے تنویر کو اپنے وطن سے۔ اس کی مٹی کو چوم رہا ہے۔
ہاں جی لائق طالب علم تو ایسے ہی ہوتے ہیںَ وطن کی محبت تو ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ایک اور طنزیہ جملہ سنائی دیا اورساتھ ہی بے ہودہ قہقہہ بھی پڑا۔ زمین پر گرے تنویر نے مڑ کر دیکھا تو دانت پیس کر رہ گیا۔ یہ مبشر اوراس کے ساتھی تھے۔ ان  کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔ تنویر کا دماغ گھوم رہا تھا مارے غصے کے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ مگر اسے اپنے جذبات پر قابو پانا آتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ان کی شرارت کا جواب لڑائی نہیں۔
دیکھ لوں گا میں تمہیں۔ اس نے نفرت سیکہا اور کپڑے جھاڑتا ہوا آگے بڑ ھ گیا۔
ارے ارے ابھی دیکھ لو ن۔ آج تو ہم تمہارے لیے بن سنور کر آئے ہیں۔
مبشر نے زور سیکہا مگر تنویر نے سنی ان سنی کر دی۔
یہ اس طرح کا پہلا واقع نہیں تھا۔ مبشر تو اس وقت سے تنویر کا دشمن بنا ہوا تھا۔ جب وہ دسویں جماعت میں داخل ہو ا تھا۔ مبشر اکھڑا اور نالائق طالب علم کے طور پر مشہور تھا۔ اس کے گرو پ کے باعث سارے لڑکے اس سے کنی کتراتے تھے۔ ادھر کسی لڑکے نے اس کا منہ لگایا اورادھر اس بیچارے کی پٹائی ہوئی کئی مرتبہ پرنسپل کے سامنے اس کی حاضری ہوئی۔ سزا ملی اور سکول سے نکالے جانے کی دھمکی دی گئی۔ مگر اس پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا۔ ایسے معاملات میں مبشر کے والد کو ایک فون ہی کافی ہوتا تھا۔ وہ اثر و رسوخ اور دولت والا تھا۔ اور اپنی اس طاقت کو بیٹے کو بگاڑنے کے لیے صرف کر رہا تھا۔ وہ بے خبر تھا کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے قیمتی سرمایہ کو تباہ کر رہا ہے۔
تنویروہ واحد لڑکا تھا جو مبشر کی کسی دھونس میں نہ آتا تھا۔ وہ اپنے کام سیکام رکھنے والا محنتی لڑکا تھا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اپنے والدین کا واحد چشم و چراغ تھا۔ جس کے مستقبل کے لیے وہ اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اسے اعلیٰ سکول میں تعلیم دلوا رہے تھے۔ وہ اساتذہ کی دل سے عزت کرتا تھا۔ شروع شروع میں مبشر نے اس پر رعب جمانے کی کوشش کی تو اس نے اپنے طرز عمل سے بتا دیا کہ وہ جھوٹے رعب میں آنے والا نہیں جب مبشر کو اپنی ہر حرکت کامنہ توڑ جواب ملا۔ تو وہ جھنجھلا گیا اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا۔ وہ ہر لمحہ اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہو گیا۔ تنویر کی دیکھا دیکھی باقی لڑکے بھی اسے آنکھیں دکھانے گے تو اسے احساس ہوا کہ اس کی داد ا گیری تنویر کے ہوتے ہوئے نہیں چل سکتی۔ 
ایک ماہ بعد سکول میں کھیلوں کے سالانہ مقابلے شروع ہو رہے تھے۔ مبشر اگرچہ اچھا طالب علم نہ تھا۔ مگر وہ فٹ بال کا عمدہ کھلاڑی ضرور تھا۔ اس خاصیت کی بنا پر اسے فٹ بال ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کی سرکردگی میں سکول ٹیم بہت سے ٹورنامنٹ جیت چکی تھی۔ جب ٹیم کے انتخاب کے لیے لڑکوں کے ٹرائلز شروع ہوئے تو تنویر نے بھی ان میں حصہ لیا۔ تب یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ اچھا طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین کھلاڑی بھی ہے۔ اس کے کھیل کے سامنے دوسرے کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ کپتان ہونے کے ناطے مبشر لڑکوں کے ٹرائلز لے رہا تھا۔ جب تنویق نے اس پر بھی گول کیے تو مبشر کو خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہوئی۔ آج تک سکول میں اس کا کوئی بھی مقابل پیدا نہ ہوا تھا۔ تنویر کے کھیل نے اس کی آنکھیں کھول دی تھیںَ فٹ بال ٹیم کے انچارج سر ریاض کو فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ مبشر کو کپتان رکھا جائے یا تنویر کو ٹیم کی سربراہی دی جئاے۔ تنویر نے اگرچہ مبشر سے عمدہ کارکردگی دکھائی تھی۔ مگر مبشر کو بھی یوں فوراً نظر انداز کر دینا غلط ہوتا۔ کیونکہ گزشتہ سالوں میں ٹیم کی کامیابیوں کا سبب وہی تھا۔ تاہم یہ تو قانون قدرت ہے کہ برتر مقام کا بہتر کا ہونا ہے۔ چنانچہ سر ریاض کو بھی فیصلہ کرنا تھا اور جلد کرنا تھا۔
آخر سر ریاض کو ایک ترکیب سوجھی۔ انہوںنے تنویر اور مبشر کو اجازت دی کہ وہ لڑکوں میں سے اپنی اپنی ٹیم کا انتخاب کریں۔ دو روز بعد دونوں ٹیموں کامقابلہ ہو گا۔ اور جیتنے والی ٹیکم کا کپتان سکول ٹیم کا کپتان ہو گا۔ اس اعلان سے سکول میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ تنویر اورمبشر مقابلے کے لیے ہمہ تن مصروف ہو گئے۔
مبشرنے اپنی ٹیم میں اپنے گروپ کے لڑکے شامل کر لیے تھے۔ گوی اب یہ میچ نیکی بدی کے مقابلے کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔
آخر مقابلے کا دن آن پہنچا۔ دونوں ٹیمیں میدان میں آمنے سامنے ہوئیں اورایک جاندار کھیل کا آغاز ہو گیا دونوں ٹیموں کے حامیوں کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی۔ آخر مبشر کی ٹیم پہلا گول کر نے میں کامیاب ہو گئی س کے ساتھیوں نے ایسا غل مچایا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ پہلے ہاف کے اختتام پر مبشر کی ٹیم کی یہ برتری قائم رہی مبشر کی گردن اکڑی ہوئی تھی۔ اس نے تنویر کے قریب سے گزرتے ہوئے جملہ کسا۔
منے میاں! ٹرائلز والے دن تو میں تیار نہیں تھا۔ آج تمہاری مہارت کا پول کھولتاہوں۔
لیکن تنویر مایوس نہیں تھا۔ ابھی میچ باقی تھا۔ اس نے اپنی ٹیم کو نء ہدایات دیں اور مبشر کی ٹیم کے کھیل کود یکھتے ہوئے نئی حکمت عملی بنائی۔ 
کھیل دوبارہ شروع ہوا تو تنویر کی ٹیم شروع ہی سے حاوی رہی۔ جب وہ یکے بعد دیگرے دو گول کرنے میں کامیاب ہوئے تو میدان کانقشہ ہ تبدیل ہو گیا۔ مشبر کے حامیوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا اب میدان تنویر کے ساتھیوں کے نعروں سے گونج رہاتھا۔ مبشر کی ٹیم نے برتری ختم کرنے کی پوری کوشش کی مگر تنویر کی ٹیم حاوی رہی۔ کھیل کے آخری لمحات میں مبشر گیند کو لے کر آگے بڑھ رہا تھا کہ تنویر اس سے گیند چھیننے کے لیے آگے بڑھا۔ دونوں کے پائوں الجھے اور مبشر زمین پر لڑھکنیاں کھاتا ہوا کئی فٹ دور جا گرا۔ تنویر جلدی سیاس کی جانب بڑھا۔ مبشر نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو تنویر کا دماغ گھوم گیا۔ اس کا منہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ گرتے وقت اس کا منہ زمین سے ٹکرایاتھا۔ اس کا اوپری ہونٹ پھٹ گی تھا اوربھل بھل نکلتا ہوا خون اس کے چہرے کو تر کر رہا تھا۔ مبشر نے اپنا ہاتھ منہ پر لگا کر دیکھا تو وہ خون سے لتھڑ گیا۔ مبشر کا دماغ غصے سے پھٹنے لگا۔ ایک تو وہ شکست کی جھنجھلاہٹ اوپر سے چوٹ اوروہ بھی تنویر کے ہاتھ سے… وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے تنویر کا گریبان پکڑ کر جھٹکا دیا۔
تمہاری یہ ہمت کہ مجھ پر ہاتھ اٹھائو۔ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ ریفری اور دوسرے لڑکوں نے بڑی مشکل سے ان دونوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا۔ اس نے مبشر کی جارحیت کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ کیونکہ وہ اس کے غصے کی اصل وجہ جانتاتھا۔ مبشر کوچند لڑکوںنے قابو کر رکھات ھا وہ بار بار خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہاتھا۔ اس کے ہونٹوں سے خون اور منہ سے انتقام کے شعلے نکل رہے تھے۔
مز ا ضرور چکھائوں گا تمہیں۔ چھوڑوں گا نہیں۔ تم نے جان بوجھ کر مجھے گرایا ہے۔ دیکھنا میں تمہاراکیا حشر کرتا ہوں۔
تاہم تنویر کی ٹیم جیت چکی تھی اور اس تلخ واقعے کے باوجود وہ خوش تھاکہ بالآخر اپنی محنت سے اس نے اپنی صلاحیت منو ا لی تھی۔
میچ ختم ہو چکا تھا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کھیل کو کھیل رہنے دیا جاتا اوراس دوران ہونے والے کسی بات کا دوبارہ ذکر نہ کیا جاتا۔ مگر مبشر … وہ تو چوٹ کی آڑ میں اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا اس نے اپنے گروپ کو بھی اس کام پر آمادہ کیا تھا وہ سب میچ کے بعداپنا لباس تبدیل کر کے سکول کے باہر آ گئے اور سکول سے چند قدم کے فاصلے پر ایک گلی میں چھپ کر کھڑے ہوگئے جہاں سے تنویر گزرا کرتاتھا۔ تنویر جس وقت سکول سے باہر نکلا اس وقت تک تقریباً تمام لڑکے گھروں کو جا چکے تھے۔ میچ کے بعد اس نے سر ریاض سے ٹیم کی پریکٹس کے متعلق گفتگو کی تھی۔ اور اب فارغ ہونے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ آسمان پر اچانک ہی بادل امڈ آئے تھے سورج نے اپنا منہ چھپا لیا تھا۔ اوراندھیرا سا چھا گیا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے اس کا موڈ خوشگوار بنا دیا تھا۔ اوروہ گنگنا تا ہوا گلی کا موڑ مڑاتو چند قدم چلنے کے بعد رک گیا اس کی چھٹی حس نے کسی خطرے کا واضح اعلان کردیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتااسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی گردن کسی شکنجے میں جکڑی گئی ہو۔ حملہ آور نے پوری قوت سے اس کی گردن کو بازوئوں میں کس لیا تھا۔ تنویر نے اپنے آپ کو سنبھالا اورکوشش کر کے اپنے آپ کو چھڑا لیا اوراس کے ساتھ ہی اس نے پیچھے گھومتے ہوئے اپنی ٹانگ سے حملہ آور کو کک لگاء اس کاشکار مبشر بنا۔ اس کے حلق سے نکلنے والی چیخ نہایت ہی بھیانک تھی۔ تنویر کا سپورٹس بوٹ اس کے اسی ہونٹ پر لگا تھا جو پہلے سے زخمی تھا۔ پہلے ہی خدا خدا کر کے خون رکا تھا۔ اب زخم پہلے سے بھی گہرا ہو گیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کسی نے اس کا جبڑاہی پھاڑ دیا ہو۔ خون فوارے کی طرح ابل رہا تھا۔ وہ چیختے ہوئے ہوئے منہ تھام کر زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا۔ کم از کم اب وہ لڑائی کے قابل نہیں رہا تھا یہ حال دیکھ کر اس کے ساتھی اپنی جگہوں پر جم کر رہ گئیء 
مم …مارو ہڈیاں توڑ دو اس کمینے کی
مبشر پوری قوت سے چلایا تو جیسے انہیں ہوش آ گیا وہ تعداد میںچار تھے۔ وہ تنویر پر پل پڑے۔ جب تک بازوئوں میں دم تھا۔ اس نے انہیں روکے رکھا۔ مگر وہ تعداد میں زیادہ تھے اور تھکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ انہوںنے اسے مار مار کر نیم بے ہوش کر دیاجانے کتنیدیر وہ یوں ہی زمین پر پڑا رہا۔ بارش بھی شروع ہو گئی تھی۔ بادل زورزور سے گرج رہے تھے۔ اس کے ماتھے کی کھال پھٹ گئی تھی۔ اور خون نکل نکل کر زمین پر جمع ہو گیا تھا۔ مبشر اور اس کے بدمعاش ساتھی جا چکے تھے۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور جیسے تیسے کر کے گھر پہنچا اس کی حالت دیکھ کر گھرمیں کھلبلی مچ گئی۔ مگراس نے چھوٹے موٹے حاددثے کا بہانہ بنا لیا۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ مبشرنے آج تمام حدیں پھلانگ لی تھیں۔ تنویر کے دل میں لاوا ابل رہا تھا تنویر نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس زیادتی کا انتقام ضرورلے گا۔ مبشر کو بھی یوں ہی سسکنے پر مجبور کرے گا۔ جیسے وہ اس وقت در د سے سسک رہا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ پہلے سکول کے پرنسپل صاحب کے سامنے مبشر کی شکایت کرے گا گر انہوںنے ایکشن نہ لیا تو پھر وہ اپنا بدلہ خود لے گا۔ وہ ابھی پورے ہفتے تک سکول جانے کے قابل نہ تھا۔ مگر تیسرے روز ہی ایک لڑکا اس کے گھر پہنچا اور سے پیغام دیا کہ پرنسپل صاحب اسے بل رہے ہیں۔ تنویر نے سوچا کہ چلو اچھا ہوا پرنسپل صاحب کو خود ہی واقعہ کی اطلاع مل گئی یقینا اس کی حالت دیکھنے کے بعد وہ مبشر کو آڑے ہاتھوں لیں گے۔ وہ پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوا تو اندر کا منظر دیکھ کر اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوگیا۔
پرنسپل کی کرسی کے سامنے مبشر اپنے والد کے ساتھ بیٹھا تھا۔ مبشر کا منہ پٹیوں سے جکڑا ہواتھا۔ ایک طرف صوفوں پر مبشر کے چاروں ساتھی بھی بیٹھے تھے۔ 
تنویر! مجھے تم جیسے لڑکے سے اس حرکت کی توقع نہ تھی۔ پرنسل صاحب نے گرج کر بات کی ابتدا کی اور ان کی آواز میں غصہ تھا۔ تنویر سمجھ چکا تھا کہ مبشر کا باپ اپنا کام کر چکا ہے۔
مبشر شرارتی سہی مگر اس پر اس طرح کے مجرمانہ حملے کا تمہیں کوئی حق نہیں تھا اگر تمہارا مارا ہوا پتھر اس کے سر پر لگتا تو کچھ اور بھی ہو سکتا تھا پرنسپل صاحب کا غصہ انتہا کو چھو رہا تھا۔
مم …مگر سر میری بات تو سنیں تنویر نے التجا کی۔
میںتمہاری کوئی بات سننے کا روادار نہیں۔ یہ تو شکر کرو کہ مبشر کے والد ایک شریف آدمی ہیں۔ اگر تمہیںپولیس کے حوالے کر دیتے تو سزابھگتتے رہتے۔
سر یقین جانیں میںبے قصور ہوں۔ تنویر کا لہجہ رو دینے والا تھا کھلی آنکھوں پر پٹی نہ باندھو۔ تمہارا قصور سامنے نظر آ رہا ہے تم نے مبشر کو پتھرمارا ہے۔ جس سے اس کے منہ پر شدیدچوٹ آئی ہے۔ اور باقاعدہ ٹانکے لگے ہیں۔ تمہارے قصور کی گواہی ان چاروں نے بھی دی ہے۔ اب می تمہارے ساتھ یہی رعایت کر سکتا ہوں کہ تمہیں سزا دیے بغیر سکول سے نکال دوں۔ یہ رہا تمہار ا سرٹیفکیٹ پرنسپل صاحب کا آخری جملہ سن کر تنویر کی آنکھوں میں آنس وبھرآئے۔ اس نے ملتجی نظروں سے مبشرکے باپ کو دیکھا مگر اس نے منہ پھیر لیا۔ تنویر نے اپنا سرٹیفکیٹ اٹھایا اور بوجل قدموں سے چل دیا۔ مبشر کے ہونٹوں پر طنزیہ اور فاتحانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ تنویر اس کے قریب سے گزرا تووہ سرگوشی میں بولا۔
کیوں منے آج تو تمہیںپتا چل گیا نا کہ تم واقعہ جھوٹے ہو۔ یہ الفاظ سیسے کی طرح تنویر کے کانوں  میں اتر گئے۔ نفرت اور انتقام کی ایک لہر اٹھی اور اس کے پورے وجود میں سرایت کر گئی۔
یاد رکھنا وقت ضرور پلٹے گا۔ اور پھر تم اپنا حشر دیکھنا۔ تنویر نے زہر خندلہجے میں کہا اوردفتر سے نکل گیا مبشر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی مزید گہری ہو گئی تھی۔
اور آج وہی مبشر رجا سر جھکائے کھڑا تھا۔ وقت واقعی پلٹ گیا تھا۔ تنویر اس کا حاکم بنا اس کے سامنے کھڑا تھا او راس کے باپ کا اثر و رسوخ اور اس کی دولت کچھ بھی تو اس کے کام نہ آیاتھا۔ جیت تو محنت کی ہوئی تھی۔
مسلم ہائی سکول سے نکلنے کے بعد اس نے ایک اور سکول میں داخلہ لے لیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ا س کے ماں باپ کی واحد آس وہ ہے اس نے محنت جاری رکھی اور آخر کار اپنی منزل پانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے والدین کی آنکھوں میں سجے خواب تعبیر بن کر چمکنے لگے تھے۔ اور دوسری طرف قدرت نے مبشر رضا کو بتا دیا تھا کہ برائی کا بدلہ تباہی ہے۔
اس کی زندگی میں اس وقت بھونچال آیا جب اس کے باپ کو بدعنوانی کے جرم میں حکومت نے دھر لیا۔ اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو وہ اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہو کر لوٹتا رہاتھا مبشر کی اڑانیں دم توڑ گئیں سب آوارگی دھری کی دھری رہ گئی کام چوری کرنے کی عادت نے سا کا مستقبل تاریک کر دیا اور وہ بمشکل کلرک کی نوکری حاصل کر سکا۔ اس نے زندگی کو مذاق سمجھا تھا مگر زندگی نے اسے مذاق بنا دیا تھا۔ ٓج وہ بری طرح پھنس گیا تھا۔ اس کے ظلم کا نشانہ بننے والا آج اس کے سامن تھا اور بااختیار تھا۔ اس ے منہ سے نکلنے والے چند الفاظ مبشر کی بقیہ زندگی میں کانٹے بچھا سکتے تھے۔ مبشر نے تنویر کے دل میں انتقام کا جو شعلہ روشن کیا تھا  آج برسوں بعد ایک بار پھر پوری شدت سے روشن ہو گیا تھا۔ اب وقت نے لاٹھی تنویر کے ہاتھ میں دے دی تھی۔ وہ مبشر سے ایک ایک زیادتی کا بدلہ لے سکتا تھا۔
تنویر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور کھڑا ہو گیا۔ وہ چند لمحے زمین پر نظریں ٹکائے کھڑا رہا۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو پھراس نے یکدم سر اٹھایا تو مبشر کا دل اچھل کر حلق میں آگیا وہ سمجھ گیا کہ فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے تنویر کا چہرہ یہی بتا رہا تھا۔
قارئین ایک منٹ ذرا ٹھہریے۔ ایک لمحے کے لیے آپ تنویر کی جگہ لے لیجے۔ اب فیصلے کا قلم آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے ضمیر کے مطابق مبشر کے متعلق فیصلہ کیجیے۔ وہ آپ کا مجرم ہے۔ اس سے جو چاہے سلوک کریں۔ مگر اپنے فیصلے سے ہمیں ضرورآگاہ کریں۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کتنے اچھے ہیں۔

COMMENTS

Name

Allama Iqbal English Articles Secret Wisdom بچوں کی کہانیاں حکایاتِ بانگ ِدرا دانائے راز علامہ اقبالؒ
false
ltr
item
Secret Wisdom | دانائے راز: فیصلہ خود کیجیے
فیصلہ خود کیجیے
Secret Wisdom | دانائے راز
https://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_77.html
https://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_77.html
true
5502768251605690494
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago