Archive Pages Design$type=blogging

رات اور شاعر

رات کی تنہائی اور خاموشی میں ایک شاعر پریشان سا پھر رہا تھا۔ اس کی یہ کیفیت دیکھ کر رات نے اُس سے کہا۔ ’’اے شاعر! تو اس چاندنی رات میں پری...

رات کی تنہائی اور خاموشی میں ایک شاعر پریشان سا پھر رہا تھا۔ اس کی یہ کیفیت دیکھ کر رات نے اُس سے کہا۔ ’’اے شاعر! تو اس چاندنی رات میں پریشان کیوں پھررہا ہے؟ صورت دیکھو تو پھول کی طرح خاموش اور حالت دیکھو تو خوشبو کی طرح آوارہ اور پریشاں! آخر کیا ماجراہے!کیا تو آسمان پر چمکتے ہوئے تاروں کے موتیوں کا جوہری ہے اور ان موتیوں کو پرکھ رہا ہے کہ ان میں سے کون سے موتی سچّے ہیں اور کون سے جھُوٹے؟ تو اِن تاروں کے حسن سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے یا چاند کی چاندنی سے مسرت حاصل کرنا چاہتا ہے؟ تیرے تڑپتے پھرنے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید تُو میرے نُور کے دریا کی کوئی مچھلی ہے جو اس دریا سے جُدا ہو کر بُری طرح تڑپ رہی ہے۔ یا میں یہ سمجھوں کہ تو میری پیشانی سے گراہوا کوئی تارا ہے جو بلندی کو چھوڑ کر زمین کی پستی میں آبسا ہے۔ کچھ بھی ہو تو اس دنیا کا باشندہ تو معلوم نہیں ہوتا بلکہ یوُںلگتا ہے جیسے توکوئی آسمانی مخلوق ہے اور کسی وجہ سے آسمان کو چھوڑ کر زمین پر آگیا ہے۔ اس وقت تو زندگی کے ساز کا ہر تار خاموش ہے۔ ساری دنیا سوئی ہوئی نظر آرہی ہے۔ دریا کی تہ میں بھنور کی آنکھ بھی نیندسے بند ہوگئی ہے اور دریا کی بے قرار لہریں بھی اس کے کناروں سے لگ کر سوگئی ہیں۔ انسانوں کی دنیا میں دن بھرکتنے ہنگامے برپا رہتے ہیں لیکن اس وقت یہ دنیا بھی یوُں سوگئی جیسے اس میں کوئی آبادی ہی نہ ہو۔ ایسے میں جب کہ ساری کائنات سکون کی حالت میں ہے، ایک شاعر ہی کے دل کو سکون اور چین کیوں نہیں؟ ساری دنیاپر میرا جادو چل گیا لیکن تُو کس طرح اس سے بچ نکلا؟‘‘
رات کی یہ باتیں سن کر شاعر نے جواب دیا۔’’اے رات! تُو تو پھر رات ہے، میرے دردِ دل کو کیا سمجھ سکتی ہے! آہ اس وسیع دنیا میں میرا کوئی ہمدم، کوئی ہم راز، کوئی رفیق کوئی ساتھی نہیں، میں اپنا دُکھڑا سنائوں تو کسے سنائوں؟ اے رات! میں تیرے چاند کی کھیتی میں اپنے آنسوئوں کے موتی بوتا ہوں اور انسانوں سے چھُپ کر صبح کی طرح روتا ہوں۔ جس طرح صبح کے وقت شبنم گرتی ہے، اسی طرح میں رو رو کر اشکوں کے موتی لُٹاتا ہوں۔ میرے آنسو بڑے شرمیلے ہیں۔ دن کے شوروغل میں نکلتے ہوئے شرماتے ہیں۔ دن کے وقت مجھے رونے اور آنسو بہانے کی ہمّت نہیں ہوتی لیکن جب رات کی تنہائی نصیب ہوتی ہے تومیرے آنسو بے اختیار ہو کر میری آنکھوں سے بہنے لگتے ہیں۔ میں اپنی فریاد کسے سنائوں؟ اپنے دل کی جلن اور تپش کا نظارہ کسے دکھائوں؟ میرا سینہ طور کی بجلی کی طرح آسمانی تجلیات کا امین ہے لیکن اسے دیکھنے والی آنکھ سورہی ہے۔ میں ان تجلیات سے اپنی قوم کو فیض یاب کرنا چاہتا ہُوں لیکن قوم تو سورہی ہے بلکہ مرُدہ ہو چکی ہے۔ میں اپنی محفل میں قبر کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں۔ اُس چراغ کی طرح جس کے ارد گرد مردے ہی مردے ہیں۔ زندہ کوئی نہیں آہ! اے رات! میں اپنی قوم کو بیدار کرنا چاہتا ہوں لیکن اس مقصد میں کامیابی محال نظر آتی ہے۔ میری منزل بڑی دور ہے۔ میری محفل کو موجود دور کی ہوا راس نہیں۔ موجودہ زمانہ چوںکہ مادہ پرستی کا زمانہ ہے اور لوگوں کے دل روحانیت سے محروم ہوچکے ہیں، اس لیے یہ عہد میری قوم کے مزاج کے مطابق نہیں ہے اور مزید دُکھ کی بات یہ ہے کہ میری قوم کو اپنے نقصان، اپنی محرومی کا احساس بھی نہیں۔ میں قوم کو جو پیغام دے رہا ہوں۔ جو بھولا ہو ا سبق اسے یاد دلانا چاہتا ہوں، قوم اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی۔ جب میں محبّت کے اس پیغام کو ضبط کرتے کرتے تنگ آجاتا ہوں تو اپنی بے تابی سے مجبور ہو کر رات کی تنہائی میں گھر سے نکل آتا ہوں تا کہ اپنے دل کے درد کا حال رات کے چمکتے ہوئے ستاروں کو ہی سنادوں۔ اس طرح میں اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتا ہوں اور میرے دل پر غم کا بھاری بوجھ کسی قدر ہلکا ہوجاتا ہے۔‘‘
علّامہ اقبالؒؒؒ نے اس نظم میں اپنی قوم کی بے حسی کا ماتم کیا ہے اور کہا ہے کہ میں اپنے پیغام کے ذریعے جن لوگوں کو خوابِ غفلت سے جگانا چاہتاہوں۔ وہ مُردوں کی سی نیند سو رہے ہیں۔ نہ جانے کب وہ اس خوابِ غفلت سے بیدار ہوں گے؟ کب میری فریاد سنیں گے؟ کب میرے پیغامِ محبّت کی طرف متوجہ ہوں گے اور کب میں اپنی منزلِ مقصود پر پہنچوں گا؟ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ جب میں محبّت کے پیغام کو ضبط کرتے کرتے عاجز آجاتا ہوں تو رات کی تنہائی میں گھر سے نکل آتا ہوں اور رات کے تاروں کو یہ پیغام سنا کر دل کی بھڑاس نکال لیتا ہوں۔

COMMENTS

Name

Allama Iqbal English Articles Secret Wisdom بچوں کی کہانیاں حکایاتِ بانگ ِدرا دانائے راز علامہ اقبالؒ
false
ltr
item
Secret Wisdom | دانائے راز: رات اور شاعر
رات اور شاعر
Secret Wisdom | دانائے راز
https://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_21.html
https://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/
http://secretwisdommag.blogspot.com/2015/11/blog-post_21.html
true
5502768251605690494
UTF-8
Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago